Thursday, 26 May 2016

ایک نظر ادھر بھی .......... ہما را نظام تعلیم 
محترم قارئین ! پا کستان میں پچھلی چند دھا ئیوں میں سکولز ، کالجز اوریو نیورسٹیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضا فہ ہوا ہے ۔ لیکن اس کے با وجود اقتصادی پسما ند گی کے ساتھ ساتھ اخلا قی گرا وٹ میں اضا فہ ہو اہے ۔انگریزوں کے زما نے میں جب سکول اسا تذہ کو تعینا تی کیلئے ٹیسٹ لیا جاتا ہے تو ان کی تعلیمی قا بلیت کے ساتھ ساتھ انکا خا ندا نی پس منظر بھی دیکھا جا تا کیو نکہ ان کی یہ سوچ تھی کہ ایک اچھے خاندا ن کا استاد ہی اچھی تعلیم دیکر طلبا ء کو اس قا بل بنا سکتا ہے کہ وہ زند گی کے ہر میدان میں محنت اورجدو جہد سے آگے بڑھ سکے اور حا لات کا مقا بلہ کر سکے ۔ لیکن آج کے دور میں اقربا ء پروری ، سیاست ، سفارش اور رشوت کی بنیاد پر تعینا تیاں کی جا تی ہیں ۔
جس طرح آئے روز تعلیمی اداروں( خواہ وہ سرکا ری ہیں یا پرائیوٹ ) میں اضا فہ ہو رہا ہے ، ہو نا تو یہ چا ہیے تھا کہ فارغ التحصیل طلبا ء و طالبات بر سر روزگار ہو تے ، ملک کے تعمیرا تی کا موں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے لیکن صورتحال اس سے برعکس ہے ۔پڑھے لکھے نو جوان بیروزگاری کی وجہ سے اس قدر ذہنی تنا ؤ کا شکار ہو جا تے ہیں کہ وہ چوری، ڈکیتی ، دہشت گردی اور خود کشی جیسے گندے عناصر پر مجبور ہو جا تے ہیں ۔ جس کی وجہ سے آج کا نو جوان در بدر کی ٹھو کریں کھا نے پر مجبور ہو جا تا ہے اور اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتا ہے ۔ان محرکات کی اصل وجہ ہما رے بنیا دی نظام تعلیم میں خرا بی ہے ۔
یہی و جہ ہے کہ بہترین تعلیمی ادارے ہو نے کے باوجود ہمارا نظام تعلیم اس معا شرے میں طبقا تی اور لسا نی تقسیم کا انتشار پیدا کر رہا ہے ۔تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کے عروج کی بڑی اور بنیا دی وجہ تعلیم تھی کیو نکہ ان کے سامنے ایک مقصد تھا اور اسی مقصد کے تحت وہ عروج کی بلند یوں کو چھو تے گئے ۔آج بھی مغربی ممالک میں مسلما نوں کی لکھی ہو ئی کتا بوں کو پڑھا یا جا تا ہے یہ شرف ان عظیم انسانوں اور مسلما نوں کو حاصل ہے جنہوں نے قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں علم و حکمت اور دانش مندی کے چراغ جلا ئے اور دنیا کو اندھیروں سے نکال کر امید کی کرن دکھا ئی ۔ہما راآج کا نو جوان جو کہ جدید دور کی پیداوار ہے ہر طرح کی سہو لتوں سے مزین اور ایک پر آسائش زند گی گزار رہا ہے ۔اعلیٰ تعلیم اور ڈگریاں حا صل کر نے کے باوجود شعور اور احساس ذمہ داری سے عاری نظر آتا ہے ۔کیو نکہ تعلیم کے ساتھ تربیت کا ہو نا بھی ضروری ہے ۔جس کی کمی آجکل کے تعلیمی نظام میں بہت شدت سے محسوس کی جا تی ہے ۔
افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہما رے نظام تعلیم میں میٹرک تک ایک طالب علم رٹا سسٹم کے تحت پڑھتا ہے لیکن اس کو سوشل سٹڈی اور پا کستان سٹڈی میں فرق واضع کر نے میں دقت کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔ ہما رے ہاں ہر پرائیویٹ سکول کا نظام تعلیم دوسرے سکول سے یکسر مختلف نظر آتا ہے ۔ ہر کو ئی اپنی مرضی کا سلیبس پڑھا رہا ہے ۔ جبکہ سرکا ری سکول اپنی جگہ آپ زبوں حا لی کا شکار ہیں ۔پسما ندہ علا قوں میں تو گورنمنٹ سکول کی بوسیدہ عمارت کو شادی ہال،ٹھیلے اور منڈی لگانے کی جگہ یا مویشی باندھنے کے لئے استعمال کیا جاتاہے۔اس کے باوجود سکولوں کا عملہ بھاری تنخواہیں وصول کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ مراعات بھی حاصل کرتے رہتے ہیں۔دوسری طرف پرائیوٹ سکولزمیں جہاں تعلیم اور قدرے بہتر ماحول فراہم کیا جاتا ہے،وہیں والدین کو بھاری فیس بھی ادا کرنی پڑتی ہے، اس کے باوجود طلباء انگریزی اور اردو میڈیم دو کشتیوں میں سوار کسی ایک پر بھی مکمل عبور حاصل نہیں کر پاتے اور اسطرح نجی سکولز کے مالکان کا کاروبار بھی چلتا رہتا ہے۔ 
ْْضرورت اس امر کی ہے کہ سنجیدگی سے اس اہم اور بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دی جائے۔نجی سطح سے حکومتی سطح تک ٹھو س اور مضبوط اقدامات سے ہی یقیناًنظام تعلیم میں مو ثر تبدیلی واقع ہوگی۔نصا ب میں اس طرح کے اسباق شامل کئے جائیں جن سے مستفید ہو کر طلباء عملی زندگی میں بہتر طریقے سے کوئی ہنر سیکھ سکیں۔ڈگریاں وصول کرنے کے بعد طلباء کو روزگارکے مواقع فراہم کئے جائیں۔بجٹ میں تعلیم کے لئے زیادہ سے زیادہ حصہ مختص کیا جائے۔اساتذہ کیلئے تربیتی ورکشاپس بھی منعقدکروائی جائیں۔اس انداز میں تربیت کی جائے کے نوجوان نسل دینی اقدار،معا شرے اور اپنے اسلاف کی اقدارسے منحرف نہ ہو۔ طبقاتی اور لسانی انتشار میں پڑنے کی بجائے اپنی ذات کو پہچاننے اور مادیت پرستی کی بجائے اسلامی جذبے اور حب ا لوطنی کے جذبے سے سر شار ہو۔ایسا نظام تعلیم جو افراد اور معا شرے کے درمیان اہم پُل کا کردار ادا کرے اور ملک حقیقی تر قی اور خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکے۔

Wednesday, 25 November 2015

Social Web: Social Web: ذرا ک نظر ادھر بھی:تحریر، نبیلہ شمیم

Social Web: Social Web: ذرا ک نظر ادھر بھی:تحریر، نبیلہ شمیم: Social Web: ذرا ک نظر ادھر بھی:تحریر، نبیلہ شمیم : ذرا ک نظر ادھر بھی:تحریر، نبیلہ شمیم تلہ گنگ تحصیل جسے شہیدوں اور غازیوں کی واحد تحص...

Friday, 24 October 2014

Social Web: ذرا ک نظر ادھر بھی:تحریر، نبیلہ شمیم

Social Web: ذرا ک نظر ادھر بھی:تحریر، نبیلہ شمیم: ذرا ک نظر ادھر بھی:تحریر، نبیلہ شمیم تلہ گنگ تحصیل جسے شہیدوں اور غازیوں کی واحد تحصیل ہونےکا رتبہ اور مرتبہ حاصل ہے،یہ تحصیل 84 اور ...

Social Web: About me

Social Web: About me:   نام  نبیلہ  شمیم  گریجویٹس  : اف  جی  ڈگری  کالج عابد مجید  روڈ  ماسٹر : فاطمہ  جننہ وومن یونیورسٹی راولپنڈی  رہاھش : راولپنڈی ...

80فیصد طبقہ اصل فیصلہ دیگا ؟

معاشرے لوگوں سے بنتے ہیں
حلقہ این اے61کا 90فیصد ووٹ دیہی علاقوں میں ہے جبکہ پی پی22کا تقریبا80فیصد اور پی پی23کا سو فیصد ووٹ دیہی علاقوں میں ہے ۔ تلہ گنگ شہرکا ووٹ 20سے 25ہزار تک ہے ، شہری ووٹ کو تحریک انصاف کے رہنما تبدیلی کا نشان سمجھتے ہیں ، اور دیہاتوں میں بسنے والوں کوانہوں نے میڈیا کے رپورٹس کے مطابق ’’نیم مردہ ‘‘ کہا ؟ حالانکہ کسی بھی امیدوار کی جیت کا انحصار ہی دیہی علاقوں میں بسنے والے ووٹر کا ہوتا ہے ، جمہوریت میں پڑھے لکھے اور ایک ان پڑھ کا ووٹ برابر حیثیت رکھتا ہے لہذا یہ کہنا کہ دیہی علاقوں میں بسنے والے لوگ تحریک انصاف کے ’’انقلاب ‘‘ کی پہچان نہیں رکھتے درست نہیں ہے،
دیہی علاقوں میں رہنے والے ووٹر، تجربہ رکھتے ہیں ، گو کہ وہاں برادری ازم اور تعلق کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ان کے فیصلوں نے پرانے اور گھاگ سیاستدانوں کوبھی حیران کر دیا تھا ، اس کی مثال حلقہ این اے61کے تینوں انتخابات ہیں ، جہاں ایک طرف چودھری پرویز الہی سابق وزیراعلی پنجاب تھے تو دوسری طرف اس وقت کے نووارد سیاستدان سردار محمد فیض ٹمن تھے ، چودھری پرویز الہی کیساتھ تمام بڑے سیاستدان اور علاقے کے کھڑپینچ کھڑے تھے لیکن پھر بھی فیض ٹمن جیت گئے ، اسی طرح دوبارہ سردار ممتا ز ٹمن نے بھی کامیابی حاصل کی ، اس کا مطلب ہے کہ دیہی علاقوں میں بسنے والا ووٹر بھی اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے ، لہذا تبدیلی کیلئے ضروری ہے کہ شہروں کیساتھ ساتھ دیہی علاقوں پر بھی توجہ دی جائے ، کیونکہ دیہی علاقوں میں رہنے والے بھی پاکستانی ہے ،سوچ اورآگہی نے نچلی سطح پر موجود دھڑے بندی کو بھی نقصان پہنچایا ہے جو یقیناًایک مثبت اورخوشگوار تبدیلی ہے ۔
مشرف کی پالیسیوں سے سب سے زیادہ نالاں ہی 80فیصد وہ طبقہ تھا جو دیہاتوں میں رہتا ہے ،لال مسجد،سانحہ کراچی ، بگٹی کا قتل ، خارجہ پالیسی کا یوٹرن، افغان جنگ میں امریکہ کیساتھ تعاون ، پاکستانیوں کو بیچنا ، کرپشن ، مخصوص لوگوں کو نوازنے کیخلاف دیہی علاقوں کے بسنے والوں نے زیادہ سخت جواب دیا، اور2008کے الیکشن میں مشرف اور اسکے حواری منہ چھپاتے پھر رہے تھے ۔اب دیہی علاقوں میں بسنے والا ووٹر بھی جاگ رہا ہے وہ سمجھ رہا ہے کہ کون کس کا آلہ کار بن چکا ہے ، اور پاکستان کا ہمدرد کو ن ہے ؟
وطن عزیز اس وقت لسانی ، مذہبی ، طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہے ، مجلس احرار کے رہنما امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اس کی پیش گوئی 1946میں کی تھی ، آج سازشوں کے بھنور میں پھنسا پاکستان بحرانوں کاشکار ہے ، سیاست پاکستان کی بقاء کیلئے نہیں بلکہ اقتدار کیلئے کی جارہی ہے ، کوئی رائے ونڈ محل کی بات کرتا ہے تو کوئی بنی گالہ اور سرائے محل کی ، ہر جگہ پرتعیش بلاول ہاؤس بن رہے ہیں او ربات روٹی کپڑا مکان کی جاتی ہے ، کہیں حق اور انصاف کا نعرہ مستانہ لگایا جاتا ہے اوراس کے برعکس سول نافرمانی کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچایا جاتاہے ، میرٹ اور گڈ گورنس کی رٹ لگانے والوں کو بھی حقدار صرف اپنے رشتہ دار ہی نظر آتے ہیں ۔
نفرت اورخونی انقلاب کے بجائے محبت اور امن کیساتھ تبدیلی کو ترجیح دی جائے ، کیونکہ ایسی تبدیلی پائیدار ہوگی جس میں خلوص اور محبت کی جھلک ہوگی ، بحیثیت مسلمان ہمارے پاس آفاقی دین ہے جو ہر آنیوالے دور ، ہر معاشرے ، ہر طبقے ، کیلئے رہنما کی حیثیت رکھتا ہے ،وطن عزیز بھی اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اب اس کو تجربہ گار بنانے کے بجائے اسلام کے آفاقی اصولوں کو اپناتے ہوئے آگے کی طرف دیکھا جائے تو جلد مثبت نتائج برآمد ہونگے ، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہر فردبدلے، عبادات کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو پہچاننا ہوگا ، معاشرے لوگوں سے بنتے ہیں ، اور بگڑے حالات کو سدھارنے کیلئے لوگوں کو ہی اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی ، آج انگریز قوم مہذب کہلاتی ہے حالانکہ وہ دین حق پر بھی نہیں ہیں لیکن انہوں نے حقوق العبادکو پہچان لیا ، اور مہذب ہوگئے ، اور جو امن کے داعی لازوال اور آفاقی دین اسلام کے پیروکار ہے وہ غیر مہذب ہوگئے اس کی وجہ ہے کہ ہم نے دین اسلام کی تعلیمات کو بھلا دیا ،صرف اپنے حق کو پہچانا اور دوسروں کیساتھ نفرت ، بغض ، حسد کا رویہ اپنا لیا ، طاقت، اثر و رسوخ کو عزت کا نشان سمجھ لیا ، کمزور کو دبا کر کامیابی نہیں ملتی بلکہ حقدار کو اس کا حق پہنچا کرہی انسان کامران ہوتا ہے ۔

social web

columns and articles

columnsarticles.blogspot.com

کینیڈین انقلاب کی آنیاں جانیاں۔تحریر: شفیق ملک

سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا لکھوں اور کہاں سے شروع کروں،بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے یا دل کے ارماں آنسوﺅں میں بہہ گئے،نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم،مگر ٹھریئے خدا کی تلاش کس کو تھی،مقصد کیا یہی تھا یا کچھ اور،عزم کتنا پختہ نظر آتا تھا اور کتنا بودا نکلا،،شروع میں یہ نظام گندہ بدبودار اٹھا کر پرے پھینک دو اور اب مجھے ووٹ دو سپورٹ دو اور اور نوٹ دو ،واہ جی واہ، ایک طرف خواب ،بشارتیں ،تم بہترین لوگ مر گئے تو شہید،تم امت کی زکوٰة ،دوسری طرف قبریں اور کفن حالانکہ شہیدوں کو تو اسی کفن میں دفن کیا جاتا ہے جس میں وہ شہید ہوتے ہیں مگر یہاں،یہ صاحب جب سے پاکستان سے گئے اور کینیڈا پہنچے اس وقت سے لیکر آج تک آپ ان کی تحریریں اور تقریریں اٹھا کر دیکھ لیں تضادات کی بھرمار کا مجموعہ ،یہ مکمل طور پر ایک کنفیوزڈ پرسنلٹی ہیں،صبح کچھ کہتے ہیں شام تک بھول چکے ہوتے ہیں،ایک اوسط ذہن کا بندہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ کنیڈا اور امریکہ اپنی شہریت کسی کو کیوں دیتے ہیں،کینیڈین شہریت اور وہ بھی ایک مولوی ٹائپ بندے کو ممکن ہی نہیں،مگر جب مولوی فضل الرحمن یا طاہر القادری ہو تو پھر کچھ بھی بعید نہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے وہ کچھ بھی دے سکتے ہیں اور یہ کچھ بھی لے سکتے ہیں،سو ہر سال ڈیڑھ کے بعد اپنا نام اور عہدہ بدلنے والے مولوی طاہر صاحب نے کینیڈین شہریت چوم کر آنکھوں سے لگائی اور بجائے کینیڈا میں اسلام پھیلانے یا انقلاب لانے کے پاکستان کی جانب عازم سفر ہوئے،یہاں پہنچ کر پہلے ہلاہلالا کرتے اسلام آباد پر چڑھائی کی ،حکمران آصف علی زرداری جیسا شاطر انسان تھا چار چھ دن بٹھا کر کچھ لارے کچھ وعدے اور کچھ دے دلا کر فارغ کر دیا،آصف علی زرداری نے اتنا کچھ ضرور تجوری میں ڈال دیا کہ کم ازکم اپنا باقی ٹائم آرام سے علامہ بلکہ خود ساختہ شیخ الاسلام سے بچ کے گذار لیا،پھر میاں نواز شریف کی حکومت آتے ہی ادھر پرویز مشرف کا ٹرائل میں تیزی آئی تو دوسری طرف ایک دفعہ پھر شیخ الاسلام کی رگ انقلاب پھڑکنے لگی،ابتدا ویسے بھی ہر دفعہ جناب شیخ لاہور سے ہی کرتے ہیں،جناب نے ایک دفعہ پھر فیصلہ کن لڑائی کا اعلان کر دیا کہ اب انقلاب آئے گا یا میں مر جاﺅں گا جو بھی انقلاب کے راستے سے واپس آئے اسے شہید کر دیا جائے لیکن حسب معمول اگلے دن اپنا بیان بدل لیا،اپنے پہلے سفر انقلاب میں آتے ہی اسمبلیاں ختم حکومت ختم وزیراعظم ختم،سپریم کورٹ زندہ باد چیف جسٹس زندہ باد اور جب اسی چیف جسٹس نے کھری کھری سنائیں تو سب مردہ باد ہونا شروع ہو گیا،اسمبلیاں کیا ختم ہونا تھیں جنہیں یزید قرار دیتے رہے پوری قوم نے دیکھا کہ وہ کنٹینر میں ان کو گھٹ گھٹ کے جپھیاں ڈالتے رہے،انہوں نے اپنی جان چھڑا لی،قمر زمان کائرہ کی پریس کانفرنس یاد گاربن گئی مولوی صاحب نے دوبارہ سانحہ ماڈل ٹاو ¾ن کو جواز بنایا،غریب لوگوں کے قتل عام کی ایف آئی آر کا ستیاناس کراد یا،نہ جانے وہ کون سے مشیر تھے اعلیٰ حضرت کے کہ جنھوں نے مشورہ دیا کہ اس ایف آئی میں وزیراعلیٰ سے لیکر وزیرا عظم سمیت ہر حکومتی شخصیت کا نام دے دیا جائے،اس سے اوٹ پٹانگ مشورہ کوئی دے سکتا ہے کسی کو،کسے نہیں پتہ کہ جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے اور ایک سچے واقعے میں جھوٹ کی ملاوٹ اس واقعے کی سچائی پہ سوالیہ نشان لگا دیتی ہے،کیا اتنی عام سی بات بھی نہیں پتہ علامہ صاحب کے پیاروں کو کہ کسی بھی ایف آئی آر کے لیے چشم دید گواہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،کیا علامہ صاحب کے علاوہ ان کا کوئی ایک بھی مرید اس بات کی قسم دے سکے گا کہ اس واقعے میں میاں نواز شریف ،شہبا شریف،چوہدری نثار،خواجہ سعد رفیق،پرویز رشید اور خواجہ آصف وغیرہ شامل تھے ، کوئی ایک بندہ بھی ایسی انٹ شنٹ گواہی نہیں دے سکتا البتہ علامہ صاحب کی بات نہیں کرتا کہ انہیں الہام ہوتا ہے اور خواب میں بھی روزانہ بشارتیں ملتی ہیں کیوں کہ انہوں نے تو پڑھا بھی چالیس سال عالم رویا میں ہے پتہ نہیں یہ کون سا عالم ہے اور اس کا ٹکٹ کہاں سے ملتا ہے یہ بھی علامہ صاحب کو ہی پتہ ہو گا،اس کے علاوہ چودہ اگست سے لیکر دھرنے کے اختتام تک علامہ صاحب نے بہت کچھ پالیا ہو گا اپنے کینیڈین آقاﺅں سے بھی اور یہاں کے حکمرانوں سے بھی مگر ایک عام پاکستانی اور خاص کر اس کارکن کو جو دو مہینے سے اپنے کام کاج چھوڑ کر اپنے خرچے پر اسلام آباد بیٹھا رہا نام نہاد انقلاب کی امید پر،دھرنے کے اختتام پر لوگوں کی دھاڑیںبے وجہ ہر گز نہ تھیںکہ یہاں ہر دفعہ عوام کے ساتھ ایسا ہی ہاتھ ہوتا ہے ہم نے تو شروع کے دنوں میں ہی لکھ دیا تھا کہ عوامی تحریک کے کارکنوں سے ایک اور ہاتھ ہونے جا رہا ہے کہ جس انقلاب کی نوید علامہ صاحب دے رہے ہیں اس کی آمد اس طرح ممکن ہی نہیں جس طرح جناب چاہتے ہیں،اس کے لیے باقاعدہ ایک طریقہ کار ہے،یہ ایک ملک ہے منہاج القرآن کا کوئی اسکول نہیں کہ اس میں کسی ایک شخص کی من مرضی کی تبدیلی کر دی جائے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو،یہاں ایک نظام ہے جس کا اس ملک کا ہر ادارہ پابند ہے،عدلیہ ہے انتظامیہ ہے،فوج ہے ،میڈیا ہے اور سب سے بڑھ کر باشعور سول سوسائٹی ،یہاں یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ایک گروہ یا لیڈر اپنے ساتھ چند ہزار کا جتھا لیکر بیس کروڑ عوام کی منتخب حکومت کو گھر بھیج دے،کیا ایسے انقلاب کا علامہ کینیڈا اپنے وطن کینیڈا میں تصور بھی کر سکتے ہیں انقلاب تو دور کی بات کسی ایک سڑک پر تین دن کا دھرنا ہی دیکر دکھا دیں دن میں تاروں بھرا انقلاب نظر آ جائے گا،یہ اپنے لوگ تھے اپنی حکومت تھی اپنی فوج تھی اور اپنی پولیس تھی کہ جس نے جناب شیخ الاسلام صاحب کی ہر ممکن کوشش کے باوجود لڑائی سے حتیٰ الامکان گریز کیا اور بے چارے شیخ کا لاشوں پہ سیاست کا خواب ادھور ارہ گیا،اس سارے کھیل میں کون جیتا کون ہارا اس کا فیصلہ وقت کرے گا ،ابھی تو قربانی سے پہلے قربانی اور حکومت کا جان ٹھر گیا ہے والوں کو منہ کی کھانی پڑی ہے حکومت قائم دا ئم ہے اور اب دور دور تک ان کو کوئی ڈر بھی نہیں،اب انہوں نے اس قوم سے گن گن کر بدلے لینے ہیں،لوڈشیڈنگ کی بھرمار اس کا آغاز ہے ،مولانا صاحب نے کھایا پیا کچھ نہیں اور گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق سوائے اپنا اور قوم کا وقت اور سرمایہ برباد کرنے کے کیا حاصل کیا ،اپنا رہا سہا اعتبار بھی برباد کر ڈالا کہ جب رفتار سے انقلاب انقلاب کرتے آتے ہیں اس سے دگنی رفتار سے واپس بھاگتے ہیں،اب قوم مزید اور ان کی کتنی آنیاں جانیا ںبرداشت کرے، جس دن ریڈ زون سے باہر کھڑے تھے اس دن جو چاہتے منوا لیتے لیکن میں نہ مانوں ہار کہ سجنا دل نہ مانے ہار، ان کے مارچ سے قوم کا فائدہ کیا ہوتا بے حد و حساب نقصان ہو گیا میں چائنہ کے صدر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی بات نہیں کروں گا،میں تو لوڈشیڈنگ ،بے روز گاری اور مہنگائی کی بات کروں گا بلدیاتی انتخابات کی بات کروں گا کہ مولانا ان میں سے ہی کوئی ایک بات منوا لیتے تو قوم کچھ تو ان کی احسان مند رہتی مگر،لیکن اس سارے کھیل میں اور کسی کو کوئی سبق ملا یا نہیں جناب شیخ الکنٹینرکو یہ سبق ضرور مل گیا کہ اصل انقلاب اور اصل تبدیلی کینیڈا اور امریکہ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو نے کی بجائے عوام کی طاقت سے ممکن ہے،اور اس 
کے لیے عوام کے پاس جاناان سے ووٹ لینا ہی واحد راستہ ہے اور یہ نہایت خوش آئند ہے اللہ کرے اب کوئی خواب ان کو اس راہ سے بھی دائیں بائیں نہ کر دے،،،،،،،،،اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو

Thursday, 23 October 2014

yahaan Na Wahaan

خلیفہ ہارون رشید نے اپنے ایک نوکر کو بلایا اور اسے تین درہم دے کر کہا کہ جاﺅ ایک درہم "یہاں اور وہاں" دوسرا "یہاں نہ وہاں" تیسرا "یہاں" خرچ کرو۔
نوکر یہ عجیب و غریب حکم سن کر درہم لے کر چلا گیا۔ 
ایک مسجد تعمیر ہورہی تھی، اس نے ایک درہم وہاں دے دیا، آگے گیا تو ایک مداری تماشا دکھا رہا تھا اس نے ایک درہم دے دیا اور ایک درہم کے پھل لے آیا۔ 
واپس آکر اس نے خلیفہ ہارون رشید کو بتایا کہ ایک درہم اس نے مسجد کی تعمیر پر خرچ کیا جو آپ کو یہاں (دنیا) اور وہاں (آخرت) میں کام آئے گا۔ دوسرا میں نے مداری کو دیا جو آپ کو "یہاں نہ وہاں" کام آئے گا۔ تیسرے درہم کے میں پھل لے آیا جو آپ کو یہاں کام آئیں گے۔ خلیفہ ہارون رشید نوکر کی عقلمندی سے بہت خوش ہوئے اور اسے انعام و اکرام سے نوازا.

sab say baraa Aalam

حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے هیں کے ایک دن قاضی کی عدالت میں کسی علمی مسئلے پر بحث هو رهی تهی. اسی دوران ایک خسته حال درویش داخل هوا اور موزوں مقام پر بیٹھ گیا. حاضرین مجلس اس کی ظاهر حالت سے اسے بالکل معمولی حیثیت کا آدمی خیال کیا اور وهاں سے اٹها کر جوتوں کے قریب بٹها دیا. درویش اس بات سے غم زده هوا لیکن خاموش رها.
بحث کسی بهت هی اهم علمی مسئلے پر هو وهی تهی اور اتفاق ایسا تها کے کوئی بهی اس مسئلے کو مناسب طور پر حل کرنے میں کامیاب نه هو رها تها. وه غصے میں ایک دوسرے کو لاجواب کرنے کی کوشش کر رهے تهے. ان کی گردنوں کی رگیں پهولی هوئی تهی اور کف اژا رهے تهے.
درویش خاموش بیٹها کپھ دیران کا یه دنگل دیکهتا رها. اور پهر بلند آواز میں بولا. حضرات اگر اجازت هو تو اس بارے میں میں کپھ عرض کروں؟
قاضی نے فورا اجازات دے دی اور درویش نے شیریں گفتاری اور استدلال کے ساتھ ایسی آسانی سے وه مشکل مسئله حل کر دیا کے سب حیران ره گئے.
اب حاضریں مجلس کو اندازه هوا کے چیتهڑوں میں لپٹا هوا یه شخص تو بہت بڑا عالم هے, قاضی فورا اپنی جگه سے اٹها اور اپنے سر سے دستار اتار کر اسے پیش کرنے هوئے بولا. افسوس هے کہ پهلے آپ کے علمی مرتبے سے آگاهی حاصل نه هوسکی. حقیقت تو یه هے کے اس دستار کے حقدار آپ زیاده هیں.
درویش نے دستار لینے سے انکار کیا اور یه کہہ کر وهاں سے چلا گیا کہ میں اس غرور کی پوٹلی کو هرگز اپنے سر پر نه رکهوں گا.
یاد رکهو کہ انسان کا رتبه بہتر لباس سے نہيں بہتر علم سے زیاده هوتا هے. کوئی شخص صرف سر بڑا هونے سے عالم نہیں بن جاتا. سب سے بڑا تو پتھر بھی هوتا هے.

Wednesday, 15 October 2014

اور پاکستان انقلاب سے بال بال بچ گیا!

شفیق ملک
فرشتہ اجل کی اک پھونک کی محتاج سانسوں کی ڈور،زندگی،کاسہ حیات،زیست مختصر،تار نفس کے انداز نرالے ہیں،اس صداقت سے انکار کیسے ممکن ہے کہ انسان فطرت کے بہت سے گہرے رازوں تک رسائی پا چکا ہے اور دن رات اسی جستجو میں ہے،وہ اپنی کوشش اور لگن میں ایک طرف آسمان کو چھوتی چوٹیوں کو اپنے پاؤں تل روند چکا تو دوسری طرف زمین کے اندر پاتال تک جا کر جی ہاں پینتیس ہزار سے لیکر پچھتر ہزار میٹر تک کھدائی کر کے تیل نکال رہا ہے ،ایک طرف چاند سے گزر کر مریخ پر جا پہنچا تو دوسری طر ف مصنوعی بارش اور سمندروں کے سمندر کنگھال رہاہے لیکن یہ سب کچھ ایک منظم اور مربوط قوت اور ہمت کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے،جوں جوں وقت تبدیل ہوتا گیا انسانی معیارات اور میزان بھی تبدیل ہوتے گئے،آج کسی کوبے وقوف بنانا مشکل بلکہ تقریباناممکن،کبھی لفظوں کے جادو گر انسانوں کو ہپناٹائز کر لیتے تھے ،لوگ اپنی مرضی کامنجن تیار کر کے مرضی کے دام وصول کر لیتے تھے، وہ دور چلا گیا مگر اپنی باقیات چھوڑ گیا جو آج بھی سمجھتے ہیں کہ اپنی پسند کا سودا تیار کر کے من مانے ریٹس ہر فروخت کر لیں گے،بے خبروں کو پتہ ہی نہیں کہ زمانہ قیامت کی چال چل گیا اور وہ ابھی تک کچھوے کی رفتا ر چھوڑنے کو تیار نہیں،آج کوئی بات چھپانا یا دبانا ممکن ہی نہیں رہا،اول تو خود ہی بولتے بولتے پھسل جاتے ہیں نہ بھی بولیں تو الیکٹرونک میڈیا (پرویز مشرف کا واحد قابل تعریف کام) ،ڈویژن اور ضلعوں کے علاوہ تحصیل سطح تک جڑیں رکھتے نیوز نیٹ ورک،انتہائی نا معقول معاوضوں پہ دیمک کی طرح ہر کھڑکی اور روزن تک رسائی رکھتے رپورٹرز اور کیمروں کے ہوتے اب کچھ چھپانا ممکن ہی نہیں رہا اور اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو لازم ہے کہ اپنے دماغ کا طبی معائنہ کرائے،انقلاب اور آزادی کی رتھوں پہ سوار وں نے سوچا ہم سب کچھ کر گزریں گے کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہو گی،تیرہ مارچ سے ایک ایک دن اور ایک ایک حرکت کا موازنہ کریں تو پانچویں جماعت کے بچے کو بھی سمجھ آجائے کہ ان دھرنوں کی آڑ میں اصل مقاصد کیا تھے ، قوم نے اب ان کے عزائم اچھی طرح بھانپ لیے ہیں کہ یہ کیا چاہتے ہیں اور ان کی ڈوری کس کے ہاتھ میں ہے،دونوں نے بیک وقت ایک ہی قسم کا اعلان کیا اور کہا گیا یہ محض اتفاق ہے اب اتفاقات دیکھئے ایک لندن میں پہنچا دوسرا بھی اتفاقاً وہاں آ نکلا ،دونوں کی غیر ملکیوں کی موجودگی میں ہوٹل میں اتفاقاً ملاقات ہو گئی،ایک نے لاہور سے اپنی جدوجہد شروع کرنیکا اعلان کیا تو اتفاقاًدوسرے نے بھی لاہور سے ہی اعلان کر دیا،اتفاق سے ایک صاحب نے جشن آزادی کے دن کا انتخاب کیا تو دوسرے صاحب نے بھی 14اگست لاہور میں منانے کا اعلان کر دیا،ایک صاحب نے شام کو اسلام آباد کیلئے رخت سفر باندھا اتفاقاً اسی وقت دوسرے صاحب نے بھی روانگی کا حکم دے دیا،اب آگے عجیب اتفاق ہوا مولانا کینیڈا آگے تھے جبکہ آزادی خان پیچھے مگر مندرہ کے قریب عجیب اتفاق ہوا کہ خان صاحب رانگ سائیڈ سے آگے نکل گئے نہ صرف خود بلکہ پورا لشکر اور اتفاق دیکھئے کہ نہ کوئی سڑک بلاک ہوئی نہ رستہ بند ہوا،اتفاقاً دونوں جلوس ایک ہی وقت میں اسلام آباد پہنچے،ایک ہی طرح کی دو کھلی سڑکوں پر قبضہ کیا،اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر اور حمایت کے لیے بے جا اور بے تکے نعرے لگائے،اتفاقاً دونوں طرف سے اعلان ہوئے کہ پولیس کو گلی مار و مگر فوج زندہ باد ،خود فوج حیران پریشان ہو گئی کہ اس بے تکی مداحیت پہ میں روؤں یا ہنسوں کروں میں کیا کروں والی کیفیت بن گئی،دونوں نے قوم کو چوبیس گھنٹے کبھی چھتس گھنٹے اور کبھی دو دن کے بعد خوشخبریا ں ملنے کی آس امیدیں دلائیں،ایمپائرکی انگلیوں کے اٹھنے کے مژدے سنائے دوسری طرف ملکی تاریخ میں پہلی بار تمام جمہوری قوتیں،سول سوسائٹی،وکلا،عدلیہ ،فوج اور میڈیا اپنی جگہ ڈٹ گئے کہ کوئی بھی غیر جمہوری اور غیر آئینی راستہ نہ اختیار کیا جائے گا نہ برداشت کیا جائے گا،جس سے ان کے غیر ملکی سرپرستوں کو شدید ترین دھچکا لگا،پھر دونوں کو ایک اتفاق نے بیک وقت ریڈ زو ن داخلے پر مجبور کر دیا،پھر اگلا اتفاق وزیراعظم ہاؤس کے اندر گھسانا چاہتا تھا کہ حکومت کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور ڈنڈے اٹھائے وزیر اعظم ہاؤس فتح کرنے والا لشکر پورس کے ہاتھیوں کی طرح واپس لشکر کی طرف پلٹ پڑا ،دونوں کنٹینرز بردار کنٹینروں میں دبک گئے اور پھر اتفاقاًدونوں کنٹینروں کے ساؤنڈ سسٹم سے اعلانات ہوئے کہ ہمارا ارادہ وزیر اعظم ہاؤس کی طرف جانے کا ہر گز نہیں تھا،پھر اتفاقاً دونوں اپنی اپنی جگہ پہ واپس آگئے اور تاحال اتفاق ان کو یہاں سے واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہا،نہ کوئی ایجنڈا نہ ڈھنگ کا مطالبہ فقط :نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے:مگر بہت کچھ عیاں ہو چکا ان کے چالیسویں تک قوم سب کچھ سمجھ چکی کون کیا ہے اور کیا ارادہ رکھتا ہے سب کچھ سامنے آچکا،لندن پلان چند جاتے ہوئے زور آوروں اور کینیڈین و امریکی ڈالروں کے عوض اس قوم کو ذلت کی پاتال میں گرانے کی مذموم سازش بے نقاب ہو چکی،تمام تفصیل کا ایک ایک لفظانتہائی معتبر اخبار نویس سلیم صافی اپنی تحریر میں واضح کر چکے ،جن پہ چاروں طرف سے اہلیان انقلاب اور پاسداران آزادی نے تبروں کی یلغار کر رکھی ہے،مگر سورج پہ نہ کوڑا پھینکا جا سکتا ھے نہ تھوکنا ممکن ہے کہ دونوں صورتوں میں گند اپنے چہرے پہ گرتا ہے،قدرت نے پاکستان اور پاکستانی عوام پہ اپنا فضل و کرم جاری رکھا پہلے بارش اور اب عید آگئی ،لکی عمرانی سرکس اور کنیڈین شو تمام ہونے کو ہے ،جو انقلاب یہ لیکر آنا چاہتے تھے یا جس قسم کی تبدیلی چاہتے تھے اگر آجاتی تو اس میں پاکستان تبدیل تو کیا ہوتا دہائیوں پیچھے چلا جاتا ،اور مصیبت و افلاس میں گھری قوم مزیدغم واندوھ میں گھر جاتی، ان دونوں حضرات کامطلوبہ انقلاب اور تبدیلی جب آرمی چیف سے ملاقات کو روانہ ہوئے دھرنے کے عین درمیان میں تو ان کی باڈی لینگوئج سمجھا رہی تھی کہ یہ کیا چاہتے ہیں ،اللہ نے اس قوم پہ رحم کیا،پارلیمنٹ نے یکجان ہو کر سپریم ادارہ ہونا ثابت کیاتو قوم نے ایک لاکھ موٹر سائیکل والی درفطنی پہ کا ن نہ دھر کے باشعور ہونے کا واضح ثبوت پیش کر دیا،وزیر اعظم کو ئی بھی ہو اور حکومت کسی کی بھی کیوں نہ ہو آنے جانے اور ہٹنے ہٹانے کا ایک آئینی طریقہ موجود ہے،سرپرستوں نے سرمائے یعنی ڈالروں سے بھرپور سرپرستی کی مگر اندر جنھوں نے تبدیلی لانی تھی ان کے سربراہ نے گھاس نہ ڈالی یوں نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم والی پوزیشن بن گئی،اب اوئے اوئے کرتے پوزیشن یہ بن گئی کہ اوئے کوئی تو آؤ ہمیں منانے مگر،جنھوں نے منانا تھا وہ امریکہ میں ہیں اور قوم دوہری خوشی کی تیاریوں میں مصروف ہے،ایک خوشی یہ کہ عید قربان کی آمد آمد اور دوسری؟؟؟؟؟جی ہاں دوسری یہ کہ پاکستان ان کے انقلاب سے بال بال بچ گیا،،،،،،،،